بوگوٹا،25اگست؍؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا اور کیوبا کے دارالحکومت ہوانا سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق سالہا سال سے مسلسل خونریزی کی وجہ بننے والے اس تنازعے کے باعث قدرتی وسائل سے مالا مال ملک کولمبیا تقریبا? ناکامی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور طویل عرصے سے بوگوٹا حکومت اور بائیں بازو کے فارک باغیوں کے درمیان جاری مذاکرات کے نتیجے میں فریقین کے مابین ایک تاریخی امن معاہدہ طے پا جانے کا اعلان بدھ چوبیس اگست کی رات کیا گیا۔1964ء میں شروع ہونے والی کولمبیا کی یہ خانہ جنگی دنیا کے طویل ترین اور خونریز ترین مسلح تنازعات میں سے ایک تھی اور اس معاہدے کے مطابق مارکسی نظریات کی حامل کولمبیا کی مسلح انقلابی افواج یا فارک( (FARCکے گوریلے اب اپنے ہتھیار پھینک دیں گے اور جوابا بوگوٹا حکومت ان باغیوں کے ملکی معاشرے میں انضمام کو یقینی بنائے گی۔
ہوانا سے، جہاں اس جنگ کے فریقین 2012ء سے امن بات چیت میں مصروف تھے، جمعرات پچیس اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق یہ جنگ گزشتہ 52برسوں میں دو لاکھ بیس ہزار سے زائد انسانوں کی ہلاکت اور ہزارہا دیگر کے لاپتہ ہو جانے کی وجہ بنی۔ اس کے علاوہ اس تنازعے کے دوران کولمبیا میں خونریزی سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کئی ملین انسان بے گھر بھی ہو گئے تھے۔کیوبا کی ثالثی میں قریب چار سال تک جاری رہنے والی مکالمت کے بعد طے پانے والے تاریخی امن سمجھوتے کے اعلان کے فوری بعد کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا میں گزشتہ رات جشن کا سا سماں تھا اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنے گھروں سے نکل کر خوشیاں منانا شروع کر دیں۔اس امن معاہدے کی عوامی توثیق کے لیے کولمبیا میں حکومت اب دو اکتوبر کو ایک عوامی ریفرنڈم بھی کرائے گی، جس میں ملکی رائے دہندگان سے اس امن سمجھوتے کی منظوری کے لیے کہا جائے گا۔
ہوانا میں یہ امن معاہدہ طے پا جانے کے بعد کولمبیا کے 65سالہ صدر خوآن مانوئل سانتوس نے، جو 2014ء میں فارک باغیوں کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے وعدے کے ساتھ دوبارہ سربراہ مملکت منتخب ہوئے تھے، ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا، آج میں اپنے دل کی گہرائیوں سے اور بڑی خوشی کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں نے وہ فریضہ انجام دے دیا ہے، جو آپ نے مجھے سونپا تھا۔صدر سانتوس نے کہا، اب فیصلہ آپ کے، کولمبیا کے عوام کے ہاتھوں میں ہے۔ آج سے پہلے ایک اچھے مستقبل کی امید کولمبیا کے عوام کی اتنی زیادہ رسائی میں نہیں تھی، جتنی کہ آج۔رائے عامہ کے اکثر جائزوں کے مطابق قوی امید ہے کہ کولمبیا کے عوام اکتوبر کے اوائل میں ہونے والے ریفرنڈم میں حکومت اور فارک باغیوں کے مابین اس تاریخ ساز امن سمجھوتے کی منظوری دے دیں گے۔